وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا امن اور خوشحالی افغانستان کے امن سے وابستہ ہے۔
واشنگٹن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بطور وزیر خارجہ پہلا دورہ افغانستان کا کیا اور افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خارجہ امور کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی واضح ہے کہ ہاہمی احترام اور برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک سے روابط برقرار رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ہاہمی رابطوں سے ایک دوسرے کی پالیسیوں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاک امریکا تعلقات سے ہمیشہ امریکا نے فائدہ اٹھایا، امریکا سے روابط برقرار رکھنے ہیں لیکن واشنگٹن کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔
بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امن کے لیے بھارت ایک قدم اٹھائے تو ہم دو قدم آگے آئیں گے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امن ہمیشہ پاکستان کی خواہش رہی ہے اور کرتار پور کا راستہ کھولنا ہماری امن کی خواہش کی عکاس ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکا میں مقیم پاکستانیوں کے کردار کے معترف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک پاکستانی ملکی معیشت کے استحکام کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں، ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی امیدیں وابستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسائل پر قابو پانے کے لیے ملک میں بلا امتیاز احتساب کے عمل کو یقینی بنائیں گے۔


No comments:
Post a Comment