سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث احتساب عدالت میں استغاثہ کے گواہ واجدضیاء پر جرح کی
خواجہ حارث نے سوال کیا کہ والیم 10جب سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا تو سیل کیا ہوا تھا، واجد ضیاء نے جواب دیا کہ والیم 10جب سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا تب سیل نہیں تھا۔
نوازشریف کے وکیل نے واجد ضیاء سے پوچھا کہ کیا سپریم کورٹ نے تحریری طورپروالیم 10 سیل کرنے کا حکم دیا تھا جس پرگواہ نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ نے زبانی کہا تھا لیکن تحریری حکم نہیں تھا۔
خواجہ حارث نے گزشتہ روز سماعت کے آغاز پرعدالت کو آگاہ کیا تھا کہ نواز شریف کلثوم نواز کی وفات کے باعث لاہور میں ہیں، ان سے کارروائی کے حوالے سے ہدایات نہیں لے سکا۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سماعت جمعرات تک ملتوی کی جائے تاکہ اپنے مؤکل سے ہدایات لے سکوں جس پر احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیے تھے کہ کلثوم نوازبڑی شخصیت تھی، کارروائی چلانا مناسب نہیں۔
بعدازاں احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت ملتوی کردی
یاد رہے کہ 11 ستمبر کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز طویل علالت کے بعد لندن میں انتقال کر گئی تھیں۔


No comments:
Post a Comment